Biblical Questions Answers

you can ask questions and receive answers from other members of the community.

What does it mean to bless God? خدا کو نوازنے کا کیا مطلب ہے

We are familiar with God’s blessings upon us, but what does it mean for us to bless the Lord? The phrases ‘bless the Lord’ and ‘bless God’ are found primarily in the Old Testament. The Psalms, especially, are filled with the psalmists’ blessings upon God. The King James Version uses ‘bless the Lord’ many times, but the more modern translations render it ‘praise the Lord.’ The Hebrew word translated ‘bless’ or ‘praise’ means literally ‘to kneel’, the implication being to kneel in worship.

Therefore, to bless the Lord means to praise Him, exalt Him, and worship Him. The Psalms are filled with blessings upon God for His counsel (Psalm 16:7), His holiness (Psalm 103:1), His dominion over all things (Psalm 103:22), His honor and majesty (Psalm 104:1). We offer Him our praise and blessings because He deserves them. Unlike God’s blessings upon us, which are wholly undeserved and by His mercy and grace, our blessing God is done out of an understanding that He is the true praiseworthy Creator and our heavenly Father.

God is glorified when we bless and praise and acknowledge Him. That acknowledgement comes in the form of praise, adoration, thanksgiving and love. That is what we were originally created for. However, no man can bless God in this way unless He is right with God for we read in Proverbs 28:9: ‘If anyone turns a deaf ear to the Law, even his prayers are detestable.’ It is only once we have been truly blessed by God in the heavenly realms (Ephesians 1:3) that we can bless God in return, in a manner that pleases Him.

ہم اپنے اوپر خُدا کی نعمتوں سے واقف ہیں، لیکن ہمارے لیے خُداوند کو برکت دینے کا کیا مطلب ہے؟ ‘خُدا کو برکت دو’ اور ‘خدا کو برکت دو’ کے جملے بنیادی طور پر عہد نامہ قدیم میں پائے جاتے ہیں۔ زبور، خاص طور پر، خدا پر زبور نویسوں کی برکتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کنگ جیمز ورژن میں کئی بار ‘بیس دی لارڈ’ کا استعمال کیا گیا ہے، لیکن زیادہ جدید تراجم اس کو ‘رب کی تعریف کریں’ پیش کرتے ہیں۔ عبرانی لفظ جس کا ترجمہ ‘برکت’ یا ‘حمد’ کیا گیا ہے اس کا لفظی معنی ہے ‘گھٹنے ٹیکنا’، اس کا مطلب گھٹنے ٹیکنا ہے۔ عبادت.

لہٰذا، خُداوند کو برکت دینے کا مطلب ہے اُس کی حمد کرنا، اُس کی بڑائی کرنا، اور اُس کی عبادت کرنا۔ زبور خدا کے مشورے (زبور 16:7)، اس کی تقدیس (زبور 103:1)، ہر چیز پر اس کی حکمرانی (زبور 103:22)، اس کی عزت اور عظمت (زبور 104:1) کے لیے برکتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہم اسے اپنی تعریفیں اور برکتیں پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کا مستحق ہے۔ ہم پر خُدا کی نعمتوں کے برعکس، جو کہ مکمل طور پر غیر مستحق ہیں اور اُس کی رحمت اور فضل سے، ہماری برکت خُدا کی اِس سمجھ سے کی گئی ہے کہ وہ حقیقی قابلِ تعریف خالق اور ہمارا آسمانی باپ ہے۔

جب ہم برکت دیتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں تو خدا کی تمجید ہوتی ہے۔ یہ اعتراف تعریف، تعظیم، شکر گزاری اور محبت کی شکل میں آتا ہے۔ ہم اصل میں اسی کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاہم، کوئی بھی آدمی اس طرح خدا کو برکت نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ خدا کے ساتھ درست نہ ہو کیونکہ ہم امثال 28:9 میں پڑھتے ہیں: ‘اگر کوئی شریعت کی طرف کان نہیں لگاتا تو اس کی دعائیں بھی قابل نفرت ہیں۔’ یہ صرف ایک بار ہے جب ہم واقعی آسمانی دائروں میں خدا کی طرف سے برکت پاتے ہیں (افسیوں 1:3) کہ ہم بدلے میں خدا کو اس طرح برکت دے سکتے ہیں جس سے وہ خوش ہو۔

Spread the love